25 دسمبر 2012 - 20:30

کراچی میں سرکاری ایجنسیوں نے تکفیری دہشت گرد ٹولے کے ایک سرغنے اورنگزیب فاروقی پر قاتلانہ حملے کا ڈرامہ رچاکر حملے سے کئی روز سرکاری ایجنسیوں کے ہاتھوں اغوا ہونے والے پانچ شیعہ نوجوانوں کو ملزم ٹہرایا اور اعلان کیا کہ ان افراد کو گرفتار کیا گیا ہے!

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں مورخہ 25دسمبر 2102 بروز منگل، کالعدم دہشت گرد تکفیری ٹولے سپاہ صحابہ کے ایک سرغنے پر قاتلانہ حملے کا ڈرامہ رچایا گیا جس سے یہ شخص بظاہر بال بال بچ گیا اور اس کے بعد پولیس اور حساس اداروں نے پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت شیعہ نوجوانوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا۔اطلاعات کے مطابق بدھ کے روز پولیس اور حساس اداروں نے انکشاف کیا کہ گویا تکفیری دہشت گرد اورنگزیب فاروقی پر ہونیو الے حملے کے الزام میں ۵ شیعہ نوجوانوں بشمول ذوالفقار تقوی، عزادار تقوی، الطاف تقوی، افتخار تقوی اور ذیشان حیدر رضوی کو گرفتار کر لیا گیا ہے!۔واضح رہے کہ پولیس اور حساس اداروں نے پانچوں شیعہ نوجوانوں کی گرفتاری کا انکشاف بدھ کے روز کیا حالانکہ ذیشان حیدر رضوی کو ان ہی سرکاری اداروں نے دو روز قبل اغوا کیا تھا جس کے بعد ان کی گاڑی کو برآمد کیا گیا تھا۔ادھر باقی چار شیعہ نوجوانوں کو حساس اداروں نے چار روز قبل ان کے گھروں سے اغوا کر لیا تھا اور آج بدھ کے روز جیتے جاگتے معاشرے، عالم صحافت اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے سرکاری اداروں نے اعلان کیا ہے کہ گویا کئی روز اغوا ہوکر سرکاری اداروں کے قبضے میں حبس بےجا کاٹنے والے نوجوان اورنگزیب فاروقی پر قاتلانہ حملے میں ملوث تھے!!!اس میں کوئی شک نہيں ہے کہ پولیس اور حساس اداروں کی جانب سے چار روز قبل غیرقانونی طور پر گھروں سے اغوا کئے جانے والے نوجوانوں کے خلاف ایسے کیس میں مقدمہ درج کرنا ـ جس کے وقوع کے وقت وہ پولیس یا خفیہ اداروں کے قبضے میں تھے ـ ان اداروں کے درمیان موجود متعصب پولیس افسران کی بد نیتی کا اظہار ہے یا پھر یہ سرکاری اداروں کا مشترکہ ایجنڈا ہے جس کی وجوہات کا صرف ان ہی اداروں کو علم ہوسکتا ہے۔ دریں اثناء شیعہ ملی تنظیموں مجلس وحدت مسلمین پاکستان، جعفریہ الائنس پاکستان، شیعہ علماء کونسل پاکستان سمیت تمام تنظیموں نے شیعہ نوجوانوں کی بلا جواز غیر قانونی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس اور حساس اداروں کی بد نیتی پر مبنی کاروائی کے خلاف ایکشن لیا جائے بصورت دیگر ملت جعفریہ راست اقدام اٹھانے پر مجبور ہوگی۔یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ پاکستان کے عام شیعہ باشندوں سے لے کر ان کے راہنماؤں تک کو شہید کیا جاتا ہے تو سرکاری اداروں کے کان پر جوں تک نہيں رینگتی جبکہ ملک دشمن تکفیریوں پر حملے کا ڈرامہ رچایا جائے تو بھی دہشت گرد ٹولوں کی زیر فرمان سرکاری ادارے فوری طور پر رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔یہ بھی لمحہ فکریہ ہے کہ اورنگزیب فاروقی پر حملے کے ڈرامے میں چار پولیس گارڈز قتل کئے گئے اور فاروقی کے ایک ساتھی کو بھی ہلاک کیا گیا لیکن اس کو زندہ چھوڑا گیا حالانکہ اگر یہ حملہ ڈرامہ نہ ہوتا تو حملہ آوروں کا اصل ٹارگٹ فاروقی ہی ہونا چاہئے تھے۔ اس سے قبل معدوم اعظم طارق بھی کبھی کبھی اپنی اہمیت بڑھانے کے لئے اپنے اوپر حملوں کے ڈرامے رچایا کرتا تھا جس میں اس کی حفاظت پر مامور پولیس والے مارے جاتے تھے اور وہ "ہیرو" بن کر بچ نکلتا تھا لیکن جو اس کو پالنے والوں نے اس کو مارنے کا ارادہ کیا تو وہ بآسانی ہلاک ہوچکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110

متعلقہ لنک:

سپاہ صحابہ کے اندرونی اختلافات نمایاں؛ اورنگزیب فاروقی پر حملہ ملک اسحق نے کروایا